ابنا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہم صل علی محمد و آلہ الاطہار
اس وقت جس قسم کی صورت حال سے ہم دوچار ہیں تقریباایسی ہی صورت حال سے ہم 1990کی دہائی میں بھی دوچار تھےنوے کی دہائی میں بھی ہمارے مطالبات عادلانہ اورحق پر مبنی تھے اس وقت ہمارا مطالبہ سن تہتر کے آئین کی پاسداری اور آئین کے مطابق عمل کرنے کا تھا اور اس وقت بھی ہماری سوسائٹی کے کچھ افراد ہمارے اس مطالبے کو سمجھ نہ سکے اور جب ہم نے مطالبات منوالیے اور تہتر کا آئین نافذ ہوا اور پارلمنٹ اور دستورکے مطابق گورنمنٹ چلنے لگی تو سب نے محسوس کیا کہ ہمارے مطالبات کی وجہ سے بحرین نے ترقی کی اور عوام پہلے سے بہتر پوزیشن میں آگئے ۔آج ہم آئینی بادشاہت کا مطالبہ کر رہے ہیں ،ہم حکومت کی تشکیل میں عوامی شراکت چاہتے ہیں ،ہم عادلانہ انتخابی حلقوں کی تشکیل چاہتے ہیں ،ایک باصلاحیت پارلمنٹ چاہتے ہیں اور یہ مطالبات بھی عادلانہ اور حق پر مبنی ہیں جس کی عوام کو اور بحرین کے مستقبل کو سخت ضرورت ہے ۔جس طرح پہلے کے مطالبات صحیح تھے اور آخر مان لینے پڑے اسی طرح یہ مطالبات بھی حق پر مبنی ہیں اور پورے ہونے جارہے ہیں ۔۔۔کیونکہ یہ موجودہ تبدیلیوں کے اندر سے ہی برآمد ہوئے ہیں اور ہر قسم کی سوسائٹی کو اس کی ضرورت ہے جس طرح دیگر عرب ملک کی عوام زندگی گذارنا چاہتی ہے اسی طرح بحرین کی عوام بھی چاہتی ہے ہمیں بھی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔جی ہاں ہر معاشرے کی اپنی خصوصیات ہیں جس کی جانب ہم متوجہ ہیں لیکن اس وقت خواہ حکومت میں بیٹھے لوگ ہوں یا حزب اختلاف ہو سب ایک حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں اور تبدیلی کا یہ عمل مسلسل کوشش اور کچھ طولانی وقت چاہتا ہے ،ہم اسی کوشش میں ہیں اور ہم نے جو مطالبات پیش کیے وہ یہی ہیں ہمارے مطالبات بحرینی عوام کے دل سے نکلنے والی آواز ہے ،بحرین کی مٹی سے ان مطالبات نے جنم لیا ہے اور بحرینی عوام کی پریشانیوں نے ہی انہیں پیش کیا ہے اور یہی چیز ان مطالبات کی طاقت اصل طاقت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110